Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 52

  1. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ﴿52﴾

    1. وَمَآ اَرْسَلْنَااور نہیں بھیجا ہم نے
    2. مِنْ قَبْلِكَتم سے پہلے
    3. مِنْسے۔ کوئی
    4. رَّسُوْلٍرسول
    5. وَّلَااور نہ
    6. نَبِيٍّنبی
    7. اِلَّآمگر
    8. اِذَاجب
    9. تَمَنّىٰٓاس نے آرزو کی
    10. اَلْقَىڈالا
    11. الشَّيْطٰنُشیطان
    12. فِيْٓمیں
    13. اُمْنِيَّتِهٖاس کی آرزو
    14. فَيَنْسَخُپس ہٹا دیتا ہے
    15. اللّٰهُاللہ
    16. مَا يُلْقِيجو ڈالتا ہے
    17. الشَّيْطٰنُشیطان
    18. ثُمَّپھر
    19. يُحْكِمُ اللّٰهُاللہ مضبوط کردیتا ہے
    20. اٰيٰتِهٖاپنی آیات
    21. وَاللّٰهُاور اللہ
    22. عَلِيْمٌجاننے والا
    23. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اے محمدؐ ، تم سے پہلےہم نے نہ کوئی رسُول ایسا بھیجا ہے نہ نبی 96 (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ)جب اُس نے تمنا کی 97 ، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہوگیا۔ 98 اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے  اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، 99 اللہ علیم ہے اور حکیم۔ 100
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 96 رسول اور نبی کے فرق کی تشریح سورة مریم حاشیہ 30 میں کی جا چکی ہے۔ سورة الْحَجّ 97 تمنّٰی کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو وہی ہیں جو اردو میں لفظ تمنا کے ہیں، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو۔ دوسرے معنی تلاوت کے ہیں، یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ سورة الْحَجّ 98 " تمنا " کا لفظ اگر پہلے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں۔ دوسرے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب بھی اس نے کلام الہٰی لوگوں کو سنایا، شیطان نے اس کے بارے میں طرح طرح کے شبہ اور اعتراضات پیدا کیے، عجیب عجیب معنی اس کو پہنائے، اور ایک صحیح مطلب کے سوا ہر طرح کے الٹے سیدھے مطلب لوگوں کو سمجھائے۔ سورة الْحَجّ 99 پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی خلل اندازیوں کے باوجود آخر کار نبی کی تمنا کو (اور آخر نبی کی تمنا اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی مساعی بار آور ہوں اور اس کا مشن فروغ پائے) پورا کرتا ہے اور اپنی آیات کو (یعنی ان وعدوں کو جو اس نے نبی سے کیے تھے) پختہ اور اٹل وعدے ثابت کردیتا ہے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ شیطان کے ڈالے ہوئے شبہات و اعتراضات کو اللہ رفع کردیتا ہے اور ایک آیت کے بارے میں جو الجھنیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالتا ہے انہیں بعد کی کسی واضح تر آیت سے صاف کردیا جاتا ہے۔ سورة الْحَجّ 100 یعنی وہ جانتا ہے کہ شیطان نے کہاں کیا خلل اندازی کی اور اس کے کیا اثرات ہوئے۔ اور اس کی حکمت ہر شیطانی فتنے کا توڑ کردیتی ہے۔