Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 6

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ﴿6﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. بِاَنَّاس لیے کہ
    3. اللّٰهَاللہ
    4. هُوَ الْحَقُّوہی برحق
    5. وَاَنَّهٗاور یہ کہ وہ
    6. يُحْيِزندہ کرتا ہے
    7. الْمَوْتٰىمردوں
    8. وَاَنَّهٗاور یہ کہ وہ
    9. عَلٰيپر
    10. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    11. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، 8 اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَجّ 8 اس سلسلہ کلام میں یہ فقرہ تین معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ ہی سچا ہے اور تنہا یہ گمان محض باطل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ کا وجود محض ایک خیالی اور فرضی وجود نہیں ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کی خاطر مان لیا گیا ہو۔ وہ نرا فلسفیوں کے خیال کا آفریدہ، واجب الوجود اور علت العلل (First Cause) ہی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی فاعل مختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت، اپنے ارادے، اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تدبیر کر رہا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ کھلنڈرا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے کھلونے بنائے اور پھر یونہی توڑ پھوڑ کر خاک میں ملا دے۔ وہ حق ہے، اس کے سب کام سنجیدہ اور با مقصد اور پر حکمت ہیں۔