تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 108
قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ﴿108﴾
- قَالَفرمائے گا
- اخْسَئُوْاپھٹکارے ہوئے پڑے رہو
- فِيْهَااس میں
- وَلَا تُكَلِّمُوْنِاور کلام نہ کرو مجھ سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ تعالیٰ جواب دے گا”دُور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اِسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 98
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 98
یعنی اپنی رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرو۔ اپنی معذرتیں پیش نہ کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے ہمیشہ کے لیے بالکل چپ ہوجاؤ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ ان کا آخری کلام ہوگا جس کے بعد ان کی زبانیں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گی۔ مگر یہ بات بظاہر قرآن کے خلاف پڑتی ہے کیونکہ آگے خود قرآن ہی ان کی اور اللہ تعالیٰ کی گفتگو نقل کر رہا ہے۔ لہٰذا یا تو یہ روایات غلط ہیں، یا پھر ان کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد وہ رہائی کے لیے کوئی عرض معروض نہ کرسکیں گے۔