تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ﴿20﴾
- وَشَجَرَةًاور درخت
- تَخْرُجُنکلتا ہے
- مِنْسے
- طُوْرِ سَيْنَآءَطور سینا
- تَنْۢبُتُگتا ہے
- بِالدُّهْنِتیل کے ساتھ لیے
- وَصِبْغٍاور سالن
- لِّلْاٰكِلِيْنَکھانے والوں کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طوُرِ سیناء سے نکلتا ہے، 21 تیل بھی لیے ہوئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 21
مراد زیتون، جو بحر روم کے گرد و پیش کے علاقے کی پیداوار میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ اس کا درخت ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتی کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قد و قامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔ طور سیناء کی طرف اس کو منسوب کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہی علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں ترین مقام طور سیناء ہے، اس درخت کا وطن اصلی ہے۔