تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 47
Tafseerفَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ﴿47﴾
- فَقَالُوْٓاپس انہوں نے کہا
- اَنُؤْمِنُکیا ہم ایمان لے آئیں
- لِبَشَرَيْنِدو آدمیوں پر
- مِثْلِنَااپنے جیسا
- وَقَوْمُهُمَااور ان کی قوم
- لَنَاہماری
- عٰبِدُوْنَبندگی (خدمت) کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہنے لگے”کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ 401 اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے۔“ 41
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 40
اصل میں وَکَانُوْا قَوْماً عٓالِیْنَ کے الفاظ ہیں، جن کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بڑے گھمنڈی، ظالم اور دراز دست تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑے اونچے بنے اور انہوں نے بڑی دوں کی لی۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 40 (الف)
تشریح کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ 26۔
سورة الْمُؤْمِنُوْن 41
اصل الفاظ ہیں " جن کی قوم ہماری عابد ہے "۔ عربی زبان میں کسی کا " مطیع فرمان " ہونا اور " اس کا عبادت گزار " ہونا، دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں، جو کسی کی بندگی و اطاعت کرتا ہے وہ گویا اس کی عبادت کرتا ہے۔ اس سے بڑی اہم روشنی پڑتی ہے لفظ " عبادت " کے معنی پر اور انبیاء (علیہم السلام) کی اس دعوت پر کہ صرف اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت چھوڑ دینے کی تلقین جو وہ کرتے تھے اس کا پورا مفہوم کیا تھا " عبادت " ان کے نزدیک صرف " پوجا " نہ تھی۔ ان کی دعوت یہ نہیں تھی کہ صرف پوجا اللہ کی کرو، باقی بندگی و اطاعت جس کی چاہو کرتے رہو۔ بلکہ وہ انسان کو اللہ کا پرستار بھی بنانا چاہتے تھے اور مطیع فرمان بھی، اور ان دونوں معنوں کے لحاظ سے دوسروں کی عبادت کو غلط ٹھہراتے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف حاشیہ 50)