تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 53
Tafseerفَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿53﴾
- فَتَقَطَّعُوْٓاپھر انہوں نے کاٹ لیا
- اَمْرَهُمْاپنا کام
- بَيْنَهُمْآپس میں
- زُبُرًاٹکڑے ٹکڑے
- كُلُّ حِزْبٍہر گروہ
- بِمَااس پر جو
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- فَرِحُوْنَخوش
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے 48
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِنُوْن 48
یہ محض بیان واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس استدلال کی ایک کڑی بھی ہے جو آغاز سورة سے چلا آ رہا ہے۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب نوح ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء یہ توحید اور عقیدہ آخرت کی تعلیم دیتے رہے ہیں، تو لا محالہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوع انسانی کا اصل دین یہی اسلام ہے، اور دوسرے تمام مذاہب جو آج پائے جاتے ہیں وہ اسی کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں جو اس کی بعض صداقتوں کو مسخ کر کے اور اس کے اندر بعض من گھڑت باتوں کا اضافہ کر کے بنالی گئی ہیں۔ اب اگر غلطی پر ہیں تو وہ لوگ ہیں جو ان مذاہب کے گرویدہ ہو رہے ہیں، نہ کہ وہ جو ان کو چھوڑ کر اصل دین کی طرف بلا رہا ہے۔