تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 24. An-Noor · Ayah 60
وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿60﴾
- وَالْقَوَاعِدُاور خانہ نشین بوڑھی
- مِنَ النِّسَآءِعورتوں میں سے
- الّٰتِيْوہ جو
- لَا يَرْجُوْنَآرزو نہیں رکھتی ہیں
- نِكَاحًانکاح
- فَلَيْسَتو نہیں
- عَلَيْهِنَّان پر
- جُنَاحٌکوئی گناہ
- اَنْ يَّضَعْنَکہ وہ اتار رکھیں
- ثِيَابَهُنَّاپنے کپڑے
- غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍنہ ظاہر کرتے ہوئے
- بِزِيْنَةٍزینت کو
- وَاَنْاور اگر
- يَّسْتَعْفِفْنَوہ بچیں
- خَيْرٌبہتر
- لَّهُنَّان کے لیے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- سَمِيْعٌسننے والا
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں 92 ، نکاح کی اُمیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اُتار کر رکھ دیں 93 تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ 94 تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النُّوْر 94
اصل الفاظ ہیں غیر مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِیْنَۃٍ ، " زینت کے ساتھ تبرُّج کرنے والی نہ ہوں "۔ تَبَرُّج کے معنی ہیں اظہار و نمائش کے۔ بارج اس کھلی کشتی یا جہاز کو کہتے ہیں جس پر چھت نہ ہو۔ اسی معنی میں عورت کے لیے یہ لفظ اس وقت بولتے ہیں جبکہ وہ مردوں کے سامنے اپنے حسن اور اپنی آرائش کا اظہار کرے۔ تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ چادر اتار دینے کی یہ اجازت ان بوڑھی عورتوں کو دی جا رہی ہے جن کے اندر بن ٹھن کر رہنے کا شوق باقی نہ رہا ہو اور جن کے صنفی جذبات سرد پڑچکے ہوں۔ لیکن اگر اس آگ میں کوئی چنگاری ابھی باقی ہو اور وہ نمائش زینت کی شکل اختیار کر رہی ہو تو پھر اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔