تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 21
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا﴿21﴾
- وَقَالَاور کہا
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يَرْجُوْنَوہ امید نہیں رکھتے
- لِقَآءَنَاہم سے ملنا
- لَوْلَآکیوں نہ
- اُنْزِلَاتارے گئے
- عَلَيْنَاہم پر
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- اَوْ نَرٰيیا ہم دیکھ لیتے
- رَبَّنَااپنا رب
- لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْاتحقیق انہوں نے بڑا کیا
- فِيْٓ اَنْفُسِهِمْاپنے دلوں میں
- وَعَتَوْاور انہوں نے سرکشی کی
- عُتُوًّا كَبِيْرًابڑی سرکشی
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں”کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ 33 یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں۔ 34“بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں 35 اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سر کشی میں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفُرْقَان 33
یعنی اگر واقعی خدا کا ارادہ یہ ہے کہ ہم تک اپنا پیغام پہنچائے تو ایک نبی کو واسطہ بنا کر صرف اس کے پاس فرشتہ بھیج دینا کافی نہیں ہے، ہر شخص کے پاس ایک فرشتہ آنا چاہیے جو اسے بتائے کہ تیرا رب تجھے یہ ہدایت دیتا ہے۔ یا فرشتوں کا ایک وفد مجمع عام میں ہم سب کے سامنے آجائے اور خدا کا پیغام پہنچا دے۔ سورة انعام میں بھی ان کے اس اعتراض کو نقل کیا گیا ہے وَاِذَا جَآءَتْھُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اَوْتِیَ رُسُلُ اللہِ ؕ اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ۔ جب کوئی آیت ان کے سامنے پیش ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہمیں وہی کچھ نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنا پیغام پہنچانے کا کیا انتظام کرے " (آیت 124)۔
سورة الْفُرْقَان 34
یعنی اللہ میاں خود تشریف لے آئیں اور فرمائیں کہ بندو، میری تم سے یہ التماس ہے۔
سورة الْفُرْقَان 35
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے " بڑی چیز سمجھ لیا اپنی دانست میں انہوں نے اپنے آپ کو "۔