تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 30
Tafseerوَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا﴿30﴾
- وَقَالَاور کہے گا
- الرَّسُوْلُرسول
- يٰرَبِّاے میرے رب
- اِنَّبیشک
- قَوْمِيمیری قوم
- اتَّخَذُوْاٹھہرا لیا انہوں نے
- ھٰذَا الْقُرْاٰنَاس قرآن کو
- مَهْجُوْرًامتروک (چھوڑنے کے قابل)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور رسُولؐ کہے گا کہ ”اے میرے ربّ، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہٴ تضحیک 41 بنا لیا تھا۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفُرْقَان 41
اصل میں لفظ مھجور استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ اگر اسے ھَجْر سے مشتق مانا جائے تو معنی ہوں گے متروک، یعنی ان لوگوں نے قرآن کو قابل التفات ہی نہ سمجھا، نہ اسے قبول کیا اور نہ اس سے کوئی اثر لیا۔ اور اگر ھُجْر سے مشتق مانا جائے تو اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اسے ہذیان اور بکواس سمجھا۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اسے اپنے ہذیان اور اپنی بکواس کا ہدف بنا لیا اور اس پر طرح طرح کی باتیں چھانٹتے رہے۔