Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 10

  1. وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ﴿10﴾

    1. وَاَلْقِاور تو ڈال
    2. عَصَاكَاپنا عصا
    3. فَلَمَّاپس جب اسے
    4. رَاٰهَااسے دیکھا
    5. تَهْتَزُّلہراتا ہوا
    6. كَاَنَّهَاگویا کہ وہ
    7. جَآنٌّسانپ
    8. وَّلّٰىوہ لوٹ گیا
    9. مُدْبِرًاپیٹھ پھیر کر
    10. وَّلَمْ يُعَقِّبْاور مڑ کر نہ دیکھا
    11. يٰمُوْسٰياے موسیٰ
    12. لَا تَخَفْتو خوف نہ کھا
    13. اِنِّىْبیشک میں
    14. لَا يَخَافُخوف نہیں کھاتے
    15. لَدَيَّمیرے پاس
    16. الْمُرْسَلُوْنَرسول (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔“ جُونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے12 تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔”اے موسیٰؑ ، ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے13
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 12 سورة اعراف اور سورة شعراء میں اس کے لیے ثعبان (اژدھے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے " جان " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لے بولا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی، اسی مفہوم کو سورة طہ میں حیۃ تسعی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ سورة النمل 13 یعنی میرے حضور اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے رسالت کے منصب عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بلاتا ہوں تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں، اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بےخوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہوگا۔