تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 12
وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿12﴾
- وَاَدْخِلْاور داخل کر (ڈال)
- يَدَكَاپنے گریبان میں
- فِيْ جَيْبِكَاپنے گریبان میں
- تَخْرُجْوہ نکلے گا
- بَيْضَآءَسفید۔ روشن
- مِنْسے۔ کے
- غَيْرِ سُوْٓءٍکسی عیب کے بغیر
- فِيْمیں
- تِسْعِ اٰيٰتٍنو نشانیاں
- اِلٰىطرف
- فِرْعَوْنَفرعون
- وَقَوْمِهٖاور اس کی قوم
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاہیں
- قَوْمًاقوم
- فٰسِقِيْنَنافرمان
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو۔ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دونشانیاں)نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اُس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے) 16، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 16
سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نو نشانیاں (تِسْعَ اٰيٰتٍ بَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورة اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے۔ (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی (2) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا (4) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے ماطبق سارے ملک میں قحط (5) طوفان (6) ٹڈی دل (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان سب میں جوئیں (8) مینڈکوں کا طوفان (9) اور خون (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 43)