Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 25

  1. اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ﴿25﴾

    1. اَلَّاکہ نہیں
    2. يَسْجُدُوْا لِلّٰهِوہ سجدہ کرتے اللہ کو
    3. الَّذِيْوہ جو
    4. يُخْرِجُنکالتا ہے
    5. الْخَبْءَچھپی ہوئی
    6. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    7. وَالْاَرْضِاور زمین
    8. وَيَعْلَمُاور جانتا ہے
    9. مَا تُخْفُوْنَجو تم چھپاتے ہو
    10. وَمَااور جو
    11. تُعْلِنُوْنَتم ظاہر کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا  ہے33 اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔ 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 33 یعنی جو ہر آن ان چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں کہاں پوشیدہ تھیں زمین کے پیٹ سے ہر آن بیشمار نباتات نکال رہا ہے اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے، عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لارہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ سورة النمل 34 یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں، اس پر سب کچھ عیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بطور نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آسکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دہکتا ہوا کرہ جو پیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے، بکہ صرف وہ ہستی اس کا استحقاق رکھتی ہے جو علیم وخبیر ہے اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لارہی ہے۔