Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 34

Tafseer
  1. قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿34﴾

    1. قَالَتْوہ بولی
    2. اِنَّبیشک
    3. الْمُلُوْكَبادشاہ (جمع)
    4. اِذَا دَخَلُوْاجب داخل ہوتے ہیں
    5. قَرْيَةًکسی بستی
    6. اَفْسَدُوْهَااسے تباہ کردیتے ہیں
    7. وَجَعَلُوْٓااور کردیا کرتے ہیں
    8. اَعِزَّةَمعززین
    9. اَهْلِهَآوہاں کے
    10. اَذِلَّةًذلیل
    11. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    12. يَفْعَلُوْنَوہ کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
ملکہ نے کہا کہ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں39۔ یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں40
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 39 اس ایک فقرے میں امپیریلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی، اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کو خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بےبس کردیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے، اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم کردیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی، خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی، فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کردیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔ سورة النمل 40 اس فقرے میں دو برابر کے احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملکہ سبا ہی کا قول ہو اور اس نے اپنے پچھلے قول پر بطور تاکید اس کا اضافہ کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو جو ملکہ کے قول کی تائید کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔