Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 37

Tafseer
  1. اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ﴿37﴾

    1. اِرْجِعْتو لوٹ جا
    2. اِلَيْهِمْان کی طرف
    3. فَلَنَاْتِيَنَّهُمْہم ضرور لائیں گے ان پر
    4. بِجُنُوْدٍایسا لشکر
    5. لَّا قِبَلَنہ طاقت ہوگی
    6. لَهُمْان کو
    7. بِهَااس کی
    8. وَلَنُخْرِجَنَّهُمْہم ضرور نکالدیں گے انہیں
    9. مِّنْهَآوہاں سے
    10. اَذِلَّةًذلیل کر کے
    11. وَّهُمْاور وہ
    12. صٰغِرُوْنَخوار ہوں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
(اے سفیر)واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے42  جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 42 پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے، یعنی پوری بات یوں ہے کہ اے سفیر یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف، انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ورنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے۔