تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 36
Tafseerفَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ﴿36﴾
- فَلَمَّاپس جب
- جَآءَآیا
- سُلَيْمٰنَسلیمان
- قَالَاس نے کہا
- اَتُمِدُّوْنَنِکیا تم میری مدد کرتے ہو
- بِمَالٍمال سے
- فَمَآپس جو
- اٰتٰىنِۦ اللّٰهُمجھے دیا اللہ نے
- خَيْرٌبہتر
- مِّمَّآاس سے جو
- اٰتٰىكُمْاس نے تمہیں دیا
- بَلْبلکہ
- اَنْتُمْتم
- بِهَدِيَّتِكُمْاپنے تحفہ سے
- تَفْرَحُوْنَخوش ہوتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا”کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔41 تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 41
اس جملے سے مقصود اظہار فخر وتکبر نہیں ہے، اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے، یا پھر کم سے کم جو چیز میں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہوجاؤ، اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظام زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑ دوں، مجھے میرے رب نے جو کچھ دے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں۔