Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 50

Tafseer
  1. وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿50﴾

    1. وَمَكَرُوْااور انہوں نے مکر کیا
    2. مَكْرًاایک تدبیر
    3. وَّمَكَرْنَااور ہم نے خفیہ تدبیر کی
    4. مَكْرًاایک تدبیر
    5. وَّهُمْاور وہ
    6. لَا يَشْعُرُوْنَنہ جانتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔65
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 65 یعنی قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالح کے ہاں شبخون مارتے، اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہوگئی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔ سورة ہود میں ذکر آتا ہے کہ جب انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالح نے انہیں نوٹس دیا کہ بس اب تین دن مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا (فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ) اس پر شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ صالح کا عذاب موعود تو آئے چاہے نہ آئے، ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا بھی کیوں نہ کام تمام کردیں۔ چناچہ اغلب یہ ہے کہ انہوں نے شبخون مارنے کے لیے وہی رات تجویز کی ہوگی جس رات عذاب آنا تھا اور قبل اس کے کہ ان کا ہاتھ حضرت صالح پر پڑتا خدا کا زبردست ہاتھ پر پڑگیا۔
Tafheem-ul-Quran - 27 : 50