تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 49
Tafseerقَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿49﴾
- قَالُوْاوہ کہنے لگے
- تَقَاسَمُوْاتم باہم قسم کھاؤ
- بِاللّٰهِاللہ کی
- لَنُبَيِّتَنَّهٗالبتہ ہم ضرور شبخون ماریں گے اس پر
- وَاَهْلَهٗجاور اس کے گھر والے
- ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّپھر ضرور ہم کہ دیں گے
- لِوَلِيِّهٖاس کے وارثوں سے
- مَا شَهِدْنَاہم موجود نہ تھے
- مَهْلِكَہلاکت کے وقت
- اَهْلِهٖاس کے گھروالے
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- لَصٰدِقُوْنَالبتہ سچے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
انہوں نے آپس میں کہا”خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے63 کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔“64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 63
یعنی حضرت صالح ؑ کے قبیلے کے سردار سے جس کو قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کا حق پہنچتا تھا، یہ وہی پوزیشن تھی جو نبی ﷺ کے زمانے میں آپ کے چچا ابوطالب کو حاصل تھی، کفار قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو قتل کردیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابو طالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعوی لے کر اٹھیں گے۔
سورة النمل 64
یہ بعینہ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی ﷺ کے خلاف سوچتے رہتے تھے اور بالاخر یہی سازش انہوں نے ہجرت کے موقع پر حضور کو قتل کرنے کے لیے کی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ ملکر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔