Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 55

Tafseer
  1. اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿55﴾

    1. اَئِنَّكُمْکیا تم
    2. لَتَاْتُوْنَآئے ہو
    3. الرِّجَالَمردوں کے پاس
    4. شَهْوَةًشہوت رانی کے لیے
    5. مِّنْعورتوں کے سوا
    6. دُوْنِ النِّسَآءِعورتوں کو چھوڑ کر
    7. بَلْبلکہ
    8. اَنْتُمْتم
    9. قَوْمٌلوگ
    10. تَجْهَلُوْنَجہالت کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔“69
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 69 جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اردو زبان میں بھی ہم گالی گلوچ اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان 63) لیکن اگر اس لفظ کو بےعلمی ہی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی ان حرکات کے برے انجام کو نہیں جانتے، تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذت نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو، مگر تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤنی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ تمہیں عنقریب بھگتنا پڑے گا۔ خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے اور تم ہو کہ انجام سے بےاخبر اپنے اس گندے کھیل میں منہمک ہو۔