تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 62
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ﴿62﴾
- اَمَّنْبھلا کون
- يُّجِيْبُقبول کرتا ہے
- الْمُضْطَرَّبیقرار
- اِذَاجب
- دَعَاهُوہ اسے پکارتا ہے
- وَيَكْشِفُاور دور کرتا ہے
- السُّوْٓءَبرائی
- وَيَجْعَلُكُمْاور تمہیں بناتا ہے
- خُلَفَآءَنائب (جمع)
- الْاَرْضِزمین
- ءَاِلٰهٌکیا کوئی معبود
- مَّعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
- قَلِيْلًاتھوڑے
- مَّاجو
- تَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟76 اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟77 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 76
مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چناچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حواشی 29۔ 41، جلد دوم یونس آیات 21۔ 22۔ حاشیہ 31۔ النحل حاشیہ 46، بنی اسرائیل حاشیہ 84، اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے، حتی کہ روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہوگیا تو انہیں خدا کو پکارنے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔
سورة النمل 77
اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم اٹھاتا ہے دوسرے یہ کہ تم کو زمین میں تصرف اور فرمانروائی کے اختیارات عطا کرتا ہے۔