Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 63

  1. اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ﴿63﴾

    1. اَمَّنْبھلا کون
    2. يَّهْدِيْكُمْتمہیں راہ دکھاتا ہے
    3. فِيْ ظُلُمٰتِاندھیروں میں
    4. الْبَرِّخشکی
    5. وَالْبَحْرِاور سمندر
    6. وَاور
    7. مَنْکون
    8. يُّرْسِلُچلاتا ہے
    9. الرِّيٰحَہوائیں
    10. بُشْرًۢاخوشخبری دینے والی
    11. بَيْنَ يَدَيْپہلے
    12. رَحْمَتِهٖاس کی رحمت
    13. ءَاِلٰهٌکیا کوئی معبود
    14. مَّعَ اللّٰهِاللہ کے ساتھ
    15. تَعٰلَى اللّٰهُبرتر ہے اللہ
    16. عَمَّااس سے جو
    17. يُشْرِكُوْنَوہ شریک ٹھہراتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے78 اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟79 کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا)ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 78 یعنی جس نے ستاروں کے ذریعہ سے ایسا انتظام کردیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرسکتے ہو، یہ بھی اللہ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے جن سے وہ اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ (آیت 16) سورة النمل 79 رحمت سے مراد بارش جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمد آمد کی خبر دے دیتی ہیں۔