تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 27. An-Naml · Ayah 66
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ع﴿66﴾
- بَلِ ادّٰرَكَبلکہ تھک کر رہ گیا
- عِلْمُهُمْان کا علم
- فِي الْاٰخِرَةِآخرت (کے بارے) میں
- بَلْ هُمْبلکہ وہ
- فِيْ شَكٍّشک میں
- مِّنْهَااس سے
- بَلْ هُمْبلکہ وہ
- مِّنْهَااس سے
- عَمُوْنَاندھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 85
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النمل 85
الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور وفکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبرہان سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں، بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں، یا اس کی طرف سے شک میں ہیں، یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکر عقبی سے بےنیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیدا کردیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات اس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے اور موحد اور مشکک سب کو مر کر مٹی ہوجانا ہے اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔
آخر کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اس فقرے سے نکلا ہے کہ " وہ نہیں جانتے کہ کھ وہ اٹھائے جائیں گے "۔ اس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔ اور ان میں فرشتے، جن، انبیاء اور اولیاء سب شامل تھے۔ ان میں سے کوئٰی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہوگی بھی یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بیخبر ی اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کھی نہ دی گئی ہو، بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے بھی غور و خوض کر کے ان دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے، بلکہ اس کی طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔