تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 26
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ﴿26﴾
- قَالَتْبولی وہ
- اِحْدٰىهُمَاان میں سے ایک
- يٰٓاَبَتِاے میرے باپ
- اسْتَاْجِرْهُاسے ملازم رکھ لو
- اِنَّبیشک
- خَيْرَبہتر
- مَنِجو۔ جسے
- اسْتَاْجَرْتَتم ملازم رکھو
- الْقَوِيُّطاقتور
- الْاَمِيْنُامانت دار
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 37
ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا، اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبورا ہم لڑکیوں کو کام کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے کہ باہر کے کام سنبھالے، آپ اس شخص کو ملازم رکھ لیں، مضبوط آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کرے گا، اور بھروسے کے قابل آدمی ہے، محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بےبس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی، اور کبھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔