Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 45

Tafseer
  1. وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ﴿45﴾

    1. وَلٰكِنَّآاور لیکن ہم نے
    2. اَنْشَاْنَاہم نے پیدا کیں
    3. قُرُوْنًابہت سی امتیں
    4. فَتَطَاوَلَطویل ہوگئی
    5. عَلَيْهِمُان کی، ان پر
    6. الْعُمُرُمدت
    7. وَمَا كُنْتَاور آپ نہ تھے
    8. ثَاوِيًارہنے والے
    9. فِيْٓمیں
    10. اَهْلِ مَدْيَنَاہل مدین
    11. تَتْلُوْاتم پڑھتے
    12. عَلَيْهِمْان پر
    13. اٰيٰتِنَاہمارے احکام
    14. وَلٰكِنَّااور لیکن ہم
    15. كُنَّاہم تھے
    16. مُرْسِلِيْنَرسول بنا کر بھیجنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔62 تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،63 مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 62 یعنی تمہارے پاس ان معلومات کے حصول کا براہ راست کوئی ذریعہ نہیں تھا، آج جو تم ان واقعات کو دو ہزار برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد اس طرح بیان کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارا آنکھوں دیکھا حال ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے تم کو یہ معلومات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔ سورة القصص 63 یعنی جب حضرت موسیٰ مدین پہنچے، اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا، اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے، اس وقت تمہارا کہیں پتہ بھی نہ تھا، تم اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہو۔ ان واقعات کا ذکر تم کچھ اس بنا پر نہیں کر رہے ہو کہ یہ تمہارا عینی مشاہدہ ہے، بلکہ یہ علم بی تم کو ہماری وحی کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوا۔