تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 47
Tafseerوَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾
- وَلَوْلَآاور اگر نہ ہوتا
- اَنْ تُصِيْبَهُمْکہ پہنچے انہیں
- مُّصِيْبَةٌکوئی مصیبت
- بِمَا قَدَّمَتْاس کے سبب۔ جو بھیجا
- اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھ (ان کے اعمال)
- فَيَقُوْلُوْاتو وہ کہتے
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- لَوْلَآکیوں نہ
- اَرْسَلْتَبھیجا تونے
- اِلَيْنَاہماری طرف
- رَسُوْلًاکوئی رسول
- فَنَتَّبِعَپس پیروی کرتے ہم
- اٰيٰتِكَتیرے احکام
- وَنَكُوْنَاور ہم ہوتے
- مِنَسے
- الْمُؤْمِنِيْنَایمان لانے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“66
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 66
اسی چیز کو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی، الا یہ کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی اور کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ جب انبیاء کی تعلیمات محو ہوجائیں، یا گمراہیوں میں خلط ملط ہو کر وسیلہ ہدایت بننے کے قابل نہ رہیں، تب لوگوں کے لیے یہ عذر پیش کرنے کا موقع پیدا ہوجاتا ہے کہ ہمیں حق و باطل کے فرق سے آگاہ کرنے اور صحیح راہ بتانے کا کوئی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا، پھر بھلا ہم کیسے ہدایت پاسکتے تھے، اسی عذر کو قطع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں نبی مبعوث فرماتا ہے تاکہ اس کے بعد جو شخص بھی غلط راہ پر چلے وہ اپنی کجروی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکے۔