Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 48

Tafseer
  1. فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ﴿48﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَآءَهُمُآیا ان کے پاس
    3. الْحَقُّحق
    4. مِنْ عِنْدِنَاہماری طرف سے
    5. قَالُوْاکہنے لگے
    6. لَوْلَآ اُوْتِيَکیوں نہ دیا گیا
    7. مِثْلَجیسا
    8. مَآ اُوْتِيَجو دیا گیا
    9. مُوْسٰيموسیٰ
    10. اَوَکیا
    11. لَمْ يَكْفُرُوْانہیں انکار کیا انہوں نے
    12. بِمَآ اُوْتِيَاس کا جو دیا گیا
    13. مُوْسٰيموسیٰ
    14. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    15. قَالُوْاانہوں نے کہا
    16. سِحْرٰنِوہ دونوں جادو
    17. تَظٰهَرَاایک دوسرے کے پشت پناہ
    18. وَقَالُوْٓااور انہوں نے کہا
    19. اِنَّاہم بیشک
    20. بِكُلٍّہر ایک کا
    21. كٰفِرُوْنَانکار کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“67 کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟68 اُنہوں نے کہا”دونوں جادُو ہیں69  جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 67 یعنی محمد ﷺ کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو حجرت موسیٰ کو دیے گئے تھے، یہ بھی عصا کا اژدھا بنا کر ہمیں دکھاتے، ان کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا، جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے درپے طوفانوں اور زمین و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھی پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لاکر ہمیں دیتے۔ سورة القصص 68 یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے، مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود موسیٰ ہی پر تم کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو، تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی، سورة سبا آیت 31 میں بھی کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں "۔ سورة القصص 69 یعنی قرآن اور توراۃ۔