تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 59
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ﴿59﴾
- وَمَا كَانَاور نہیں ہے
- رَبُّكَتمہارا رب
- مُهْلِكَہلاک کرنے والا
- الْقُرٰىبستیاں
- حَتّٰىجب تک
- يَبْعَثَبھیجدے
- فِيْٓ اُمِّهَااس کی بڑی بستی میں
- رَسُوْلًاکوئی رسول
- يَّتْلُوْاوہ پڑھے
- عَلَيْهِمْان پر
- اٰيٰتِنَاہماری آیات
- وَمَا كُنَّااور ہم نہیں
- مُهْلِكِيہلاک کرنے والے
- الْقُرٰٓىبستیاں
- اِلَّامگر (جب تک)
- وَاَهْلُهَااسکے رہنے والے
- ظٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔83
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة القصص 83
یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہوچکے تھے، مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کچ روی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں درپیش ہے، تم بھی ظالم ہوچکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ الٹا خطرے میں ڈالو گے، جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔