Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 130

Tafseer
  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ﴿130﴾

    1. يٰٓاَيُّھَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو ایمان لائے (ایمان والے)
    3. لَا تَاْ كُلُوانہ کھاؤ
    4. الرِّبٰٓواسود
    5. اَضْعَافًادوگنا
    6. مُّضٰعَفَةًدوگنا ہوا (چوگنا)
    7. وَاتَّقُوااور ڈرو
    8. اللّٰهَاللہ
    9. لَعَلَّكُمْتاکہ تم
    10. تُفْلِحُوْنَفلاح پاؤ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو98 اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 98 احد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لوٹنے میں لگ گئے۔ اس لیے حکیم مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سود خواری سے باز آؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حرص بےحد بڑھتی چلی جاتی ہے۔