تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 143
Tafseerوَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ع﴿143﴾
- وَلَقَدْاور البتہ
- كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَتم تمنا کرتے تھے
- الْمَوْتَموت
- مِنْ قَبْلِسے قبل
- اَنْکہ
- تَلْقَوْهُتم اس سے ملو
- فَقَدْ رَاَيْتُمُوْهُتو اب تم نے اسے دیکھ لیا
- وَاَنْتُمْاور تم
- تَنْظُرُوْنَدیکھتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ، لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا۔102
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 102
اشارہ ہے شہادت کے ان تمنائیوں کی طرف جن کے اصرار سے نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ فرمایا تھا۔