Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 181

  1. لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿181﴾

    1. لَقَدْ سَمِعَالبتہ سن لیا
    2. اللّٰهُاللہ
    3. قَوْلَقول (بات)
    4. الَّذِيْنَجن لوگوں نے
    5. قَالُوْٓاکہا
    6. اِنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    7. فَقِيْرٌفقیر
    8. وَّنَحْنُاور ہم
    9. اَغْنِيَآءُمالدار
    10. سَنَكْتُبُاب ہم لکھ رکھیں گے
    11. مَا قَالُوْاجو انہوں نے کہا
    12. وَقَتْلَھُمُاور ان کا قتل کرنا
    13. الْاَنْۢبِيَآءَنبی (جمع)
    14. بِغَيْرِ حَقٍّناحق
    15. وَّنَقُوْلُاور ہم کہیں گے
    16. ذُوْقُوْاتم چکھو
    17. عَذَابَعذاب
    18. الْحَرِيْقِجلانے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ نےان لوگوں کاقول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیرہے اور ہم غنی ہیں۔128 ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے ، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہٴ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب فیصلہ کا وقت آئےگا اس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اٰلِ عِمْرٰن 128 یہ یہودیوں کا قول تھا۔ قرآن مجید میں جب یہ آیت آئی کہ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا، ”کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے“ ، تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے یہودیوں نے کہنا شروع کیا کہ جی ہاں، اللہ میاں مفلس ہوگئے ہیں، اب وہ بندوں سے قرض مانگ رہے ہیں۔