Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 13

  1. وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴿13﴾

    1. وَلَمْ يَكُنْاور نہ ہوں گے
    2. لَّهُمْان کے لیے
    3. مِّنْ شُرَكَآئِهِمْان کے شریکوں میں سے
    4. شُفَعٰٓؤُاکوئی سفارشی
    5. وَكَانُوْااور وہ ہوجائیں گے
    6. بِشُرَكَآئِهِمْاپنے شریکوں کے
    7. كٰفِرِيْنَمنکر
Translation · Tafheem-ul-Quran
ان کے ٹھیر ائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا 16 اور وہ اپنے شریکوں کےمنکر ہو جائیں گے۔17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 16 شرکاء کا اطلاق تین قسم کی ہستیوں پر ہوتا ہے۔ ایک ملائکہ، انبیاء، اولیاء اور شہداء و صالحین جن کو مختلف زمانوں میں مشرکین نے خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے کر ان کے آگے مراسم عبودیت انجام دیے ہیں۔ وہ قیامت کے روز صاف کہہ دیں گے کہ تم یہ سب کچھ ہماری مرضی کے بغیر، بلکہ ہماری تعلیم و ہدایت کے سراسر خلاف کرتے رہے ہو، اس لیے ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں، ہم سے کوئی امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری شفاعت کے لیے خدائے بزرگ کے سامنے کچھ عرض معروض کریں گے۔ دوسری قسم ان اشیاء کی ہے جو بےشعور یا بےجان ہیں، جیسے چاند، سورج، سیارے، درخت، پتھر اور حیوانات وغیرہ۔ مشرکین نے ان کو خدا بنایا اور ان کی پرستش کی اور ان سے دعائیں مانگیں، مگر وہ بےچارے بیخبر ہیں کہ اللہ میاں کے خلیفہ صاحب یہ ساری نیاز مندیاں ان کے لیے وقف فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے بھی کوئی وہاں ان کی شفاعت کے لیے آگے بڑھنے والا نہ ہوگا۔ تیسری قسم ان اکابر مجرمین کی ہے جنہوں نے خود کوشش کر کے، مکر و فریب سے کام لے کر، جھوٹ کے جال پھیلا کر، یا طاقت استعمال کر کے دنیا میں خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے، مثلا شیطان، جھوٹے مذہبی پیشوا اور ظالم و جابر حکمراں وغیرہ۔ یہ وہاں خود گرفتار بلا ہوں گے، اپنے ان بندوں کی سفارش کے لیے آگے بڑھنا تو درکنار ان کی تو الٹی کوشش یہ ہوگی کہ اپنے نامہ اعمال کا بوجھ ہلکا کریں اور دار محشر کے حضور یہ ثابت کردیں کہ یہ لوگ اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہیں، ان کی گمراہی کا وبال ہم پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اس طرح مشرکین کو وہاں کسی طرف سے بھی کوئی شفاعت بہم نہ پہنچے گی۔ سورة الروم 17 یعنی اس وقت یہ مشرکین خود اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہم ان کو خدا کا شریک ٹھہرانے میں غلطی پر تھے۔ ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ فی الواقع ان میں سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصہ نہیں ہے، اس لیے جس شرک پر آج وہ دنیا میں اصرار کر رہے ہیں، اسی کا وہ آخرت میں انکار کریں گے۔