تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 20
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ﴿20﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓاور اس کی نشانیوں سے
- اَنْکہ
- خَلَقَكُمْاس نے پیدا کیا تمہیں
- مِّنْسے
- تُرَابٍمٹی
- ثُمَّپھر
- اِذَآ اَنْتُمْناگہاں تم
- بَشَرٌآدمی
- تَنْتَشِرُوْنَپھیلے ہوئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
26 اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں)پھیلتے چلے جا رہے ہو۔27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 26
خبردار رہنا چاہیے کہ یہاں سے رکوع کے خاتمہ تک اللہ تعالیٰ کی جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں وہ ایک طرف تو اوپر کے سلسلہ کلام کی مناسبت سے حیات اخروی کے امکان و وقوع پر دلالت کرتی ہیں، اور دوسری طرف یہی نشانیاں اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ صرف ایک خدا اس کا تنہا خالق، مدبر، مالک اور فرمانروا ہے جس کے سوا انسانوں کا کوئی معبود نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے تقریر ماسبق ما بعد دونوں کے ساتھ مربوط ہے۔
سورة الروم 27
یعنی انسان کا مایہ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چند بےجان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں۔ مثلا کچھ کاربن، کچھ کیلشیم، کچھ سوڈیم اور ایسے ہی چند اور عناصر۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بنا کھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اور اس کے اندر احساسات، جذبات، شعور، تعقل اور تخیل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کردی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقا ایسا بن کھڑا ہوا ہو، بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کردی گئی جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بیشمار موروثی اور بےحد و حساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہوگئی ہے ؟ کیا تم بحالت ہوش و حواس یہ کہہ سکتے ہو کہ تخلیق انسان جیسا عظیم الشان منصوبہ بنانا اور اس کو عمل میں لانا اور زمین و آسمان کی بےحد و حساب قوتوں کو انسانی زندگی کے لیے سازگار کردینا بہت سے خداؤں کی فکر و تدبیر کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ اور کیا تمہارا دماغ اپنی صحیح حالت میں ہوتا ہے جب تم یہ گمان کرتے ہو کہ جو خدا انسان کو خالص عدم سے وجود میں لایا ہے وہ اسی انسان کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟