Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 19

  1. یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿19﴾

    1. يُخْرِجُوہ نکالتا ہے
    2. الْحَيَّزندہ
    3. مِنَ الْمَيِّتِمردے سے
    4. وَيُخْرِجُاور نکالتا ہے وہ
    5. الْمَيِّتَمردہ
    6. مِنَ الْحَيِّزندہ سے
    7. وَيُحْيِاور وہ زندہ کرتا ہے
    8. الْاَرْضَزمین
    9. بَعْدَبعد
    10. مَوْتِهَا ۭاس کا مرنا
    11. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    12. تُخْرَجُوْنَتم نکالے جاؤ گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ زندہ میں سے مردے کو نکالتا ہے اور مردے میں سے زندہ کو نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔25 اسی طرح تم لوگ بھی (حالتِ موت سے) نکال لیے جاؤ گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 25 یعنی جو خد ہر آن تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ کام کر رہا ہے وہ آخر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے سے عاجز کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ ہر وقت زندہ انسانوں اور حیوانات میں سے فضلات (WasteMatter) خارج کر رہا ہے جن کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر لمحہ بےجان مادے (dead Matter) کے اندر زندگی کی روح پھونک کر بیشمار جیتے جاگتے حیوانات، نباتات اور انسان وجود میں لارہا ہے، حالانکہ بجائے خود ان مادوں میں جن سے ان زندہ ہستیوں کے جسم مرکب ہوتے ہیں، قطعا کوئی زندگی نہیں ہوتی، وہ ہر آن یہ منظر تمہیں دکھا رہا ہے کہ بنجر پڑی ہوئی زمین کو جہاں پانی میسر آیا اور یکایک وہ حیوانی اور نباتی زندگی کے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کارخانہ ہستی کو چلانے والا خدا انسان کے مرجانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز ہے تو حقیقت میں وہ عقل کا اندھا ہے۔ اس کے سر میں آنکھیں جن ظاہری مناظر کو دیکھتی ہیں، اس کی عقل کی آنکھیں ان کے اندر نظر آنے والے روشن حقائق کو نہیں دیکھتیں۔