تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 33
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ﴿33﴾
- وَاِذَااور جب
- مَسَّ النَّاسَپہنچتی ہے لوگوں کو
- ضُرٌّکوئی تکلیف
- دَعَوْاوہ پکارتے ہیں
- رَبَّهُمْاپنے رب کو
- مُّنِيْبِيْنَرجوع کرتے ہوئے
- اِلَيْهِاس کی طرف
- ثُمَّ اِذَآپھر جب
- اَذَاقَهُمْوہ ان کو چکھا دیتا ہے
- مِّنْهُاپنی طرف سے
- رَحْمَةًرحمت
- اِذَاناگہاں
- فَرِيْقٌایک گروہ
- مِّنْهُمْان میں سے
- بِرَبِّهِمْاپنے رب کے ساتھ
- يُشْرِكُوْنَشرک کرنے لگتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں،52 پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں53
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 52
یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ان کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے، امیدوں کے سہاروں جب بھی ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کا دل خود ہی اندر سے پکارنے لگتا ہے کہ اصل فرمانروائی کائنات کے مالک ہی کی ہے اور اسی کی مدد ان کی بگڑی بنا سکتی ہے۔
سورة الروم 53
یعنی پھر دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھنی شروع ہوجاتی ہیں اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضڑت کے طفیل اور فلاں آستانے کے صدقے میں ٹلی ہے۔