تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 32
مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿32﴾
- مِنَ(ان میں) سے
- الَّذِيْنَجنہوں نے
- فَرَّقُوْاٹکڑے ٹکڑے کرلیا
- دِيْنَهُمْاپنا دین
- وَكَانُوْااور ہوگئے
- شِيَعًا ۭفرقے فرقے
- كُلُّ حِزْبٍۢسب گروہ
- بِمَااس پر
- لَدَيْهِمْان کے پاس
- فَرِحُوْنَخوش ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا دیا ہے او گروہوں میں بٹ گئے ہیں،ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے۔51
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 51
یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف کہ نوع انسانی کا اصل دین وہی دین فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک نہیں پہنچا ہے، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفہ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں، اور یہ بگاڑ اس لیے آیا ہے کہ مختلف لوگوں نے فطری حقائق پر اپنی اپنی نو ایجاد باتوں کا اضافہ کر کے اپنے الگ دین بنا ڈالے، اور ہر ایک اصل حقیقت کے بجائے اس اضافہ شدہ چیز کا گرویدہ ہوگیا جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک مستقل فرقہ بنا تھا۔ اب جو شخص بھی ہدایت پاسکتا ہے وہ اسی طرح پاسکتا ہے کہ اس اصل حقیقت کی طرف پلٹ جائے جو دین حق کی بنیاد تھی، اور بعد کے ان تمام اضافوں سے اور ان کے گرویدہ ہونے والے گروہوں سے دامن جھاڑ کر بالکل الگ ہوجائے۔ ان کے ساتھ ربط کا جو رشتہ بھی وہ لگائے رکھے گا وہی دین میں خلل کا موجب ہوگا۔