Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 37

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿37﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْاانہوں نے نہیں دیکھا
    3. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    4. يَبْسُطُکشادہ کرتا ہے
    5. الرِّزْقَرزق
    6. لِمَنْجس کے لیے
    7. يَّشَآءُوہ چاہتا ہے
    8. وَيَقْدِر ُ ۭاور تنگ کرتا ہے
    9. اِنَّبیشک
    10. فِيْ ذٰلِكَاس میں
    11. لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
    12. لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتاہے(جس کا چاہتا ہے)۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔56
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 56 یعنی اہل ایمان اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں کہ کفر و شرک کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کے برعکس ایمان باللہ کے اخلاقی نتائج کیا ہیں۔ جو شخص سچے دل سے خدا پر ایمان رکھتا ہو اور اسی کو رزق کے خزانوں کا مالک سمجھتا ہو، وہ کبھی اس کم ظرفی میں مبتلا نہیں ہوسکتا جس میں خدا کو بھولے ہوئے لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسے کشادہ رزق ملے تو پھولے گا نہیں، شکر کرے گا، خلق خدا کے ساتھ تواضع اور فیاضی سے پیش آئے گا، اور خدا کا مال خدا کی راہ میں صرف کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرے گا۔ تنگی کے ساتھ رزق ملے، یا فاقے ہی پڑجائیں، تب بھی صبر سے کام لے گا، دیانت و امانت اور خود داری کو ہاتھ سے نہ دے گا، اور اخر وقت تک خدا سے فضل و کرم کی آس لگائے رہے گا۔ یہ اخلاقی بلندی نہ کسی دہریے کو نصیب ہوسکتی ہے نہ مشرک کو۔