Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 36

  1. وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ﴿36﴾

    1. وَاِذَآاور جب
    2. اَذَقْنَاہم چکھائیں
    3. النَّاسَلوگ
    4. رَحْمَةًرحمت
    5. فَرِحُوْا بِهَا ۭتو وہ خوش ہوں اس سے
    6. وَاِنْاور اگر
    7. تُصِبْهُمْپہنچے انہیں
    8. سَيِّئَةٌۢکوئی برائی
    9. بِمَااس کے سبب جو
    10. قَدَّمَتْآگے بھیجا
    11. اَيْدِيْهِمْان کے ہاتھ
    12. اِذَا هُمْناگہاں وہ
    13. يَقْنَطُوْنَمایوس ہوجاتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔55
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 55 اوپر کی آیت میں انسان کی جہالت و حماقت اور اس کا ناشکری و نمک حرامی پر گرفت تھی۔ اس آیت میں اس کے چھچھورپن اور کم ظرفی پر گرفت کی گئی ہے۔ اس تھڑ دلے کو جب دنیا میں کچھ دولت، طاقت، عزت نصیب ہوجاتی ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ اس کا کام خوب چل رہا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ میرے ہی کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو مجھے وہ کچھ میسر ہوا جس سے دوسرے محروم ہیں۔ اس غلط فہمی میں فخر و غرور کا نشہ اس پر ایسا چڑھتا ہے کہ پھر یہ نہ خدا کو خاطر میں لاتا ہے نہ خلق کو۔ لیکن جونہی کہ اقبال نے منہ موڑا اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور بد نصیبی کی ایک ہی چوٹ اس پر دل شکستگی کی وہ کیفیت طاری کردیتی ہے جس میں یہ ہر ذلیل سے ذلیل حرکت کر گزرتا ہے حتی کہ کود کشی تک کرجاتا ہے۔