Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 39

  1. وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴿39﴾

    1. وَمَآاور جو
    2. اٰتَيْتُمْتم دو
    3. مِّنْسے
    4. رِّبًاسود
    5. لِّيَرْبُوَا۟تاکہ بڑھے
    6. فِيْٓمیں
    7. اَمْوَالِمال (جمع)
    8. النَّاسِلوگ (جمع)
    9. فَلَا يَرْبُوْاتو نہیں بڑھتا
    10. عِنْدَ اللّٰهِ ۚاللہ کے ہاں
    11. وَمَآ اٰتَيْتُمْاور جو تم دو
    12. مِّنْسے
    13. زَكٰوةٍزکوۃ
    14. تُرِيْدُوْنَچاہتے ہوئے
    15. وَجْهَ اللّٰهِاللہ کی رضا
    16. فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
    17. هُمُوہ
    18. الْمُضْعِفُوْنَچند در چند کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو سُود تم دیتے ہو تا کہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے ، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا،59 اور جو زکوٰة تم اللہ کی خوشنودی حاصل کر نے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے درحقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں۔60
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 59 قرآن مجید میں یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت میں نازل ہوئی۔ اس میں صرف اتنی بات فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ تو سود یہ سمجھتے ہوئے دیتے ہو کہ جس کو ہم یہ زائد مال دے رہے ہیں اس کی دولت بڑھے گی، لیکن درحقیقت اللہ کے نزدیک سود سے دولت کی افزائش نہیں ہوتی بلکہ زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ آگے چل کر جب مدینہ طیبہ میں سود کی حرمت کا حکم نازل کیا گیا تو اس پر مزید یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ (البقرہ، آیت 276) " اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے " (بعد کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران، آیت 130۔ البقرہ، آیات 275 تا 281۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے دو اقوال ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں ربو سے مراد وہ سود نہیں ہے جو شرعا حرام کیا گیا ہے، بلکہ وہ عطیہ یا ہدیہ و تحفہ ہے جو اس نیت سے دیا جائے کہ لینے والا بعد میں ا سے زیادہ واپس کرے گا۔ یا معطی کے لیے کوئی مفید خدمت انجام دے گا، یا اس کا خوشحال ہوجانا معطی کی اپنی ذات کے لیے نافع ہوگا۔ یہ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب القرظی اور شعبی ؓ کا قول ہے۔ اور غالبا یہ تفسیر ان حضرات نے اس بنا پر فرمائی ہے کہ آیت میں اس فعل کا نتیجہ صرف اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس دولت کو کوئی افزائش نصیب نہ ہوگی، حالانکہ اگر معاملہ اس سود کا ہوتا جسے شریعت نے حرام کیا ہے تو مثبت طور پر فرمایا جاتا کہ اللہ کے ہاں اس پر سخت عذاب دیا جائے گا۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ نہیں اس سے مراد وہی معروف ربو ہے جسے شریعت نے حرام کیا ہے۔ یہ رائے حضرت حسن بصری اور سدی کی ہے اور علامہ آلوسی کا خیال ہے کہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے، کیونکہ عربی زبان میں ربو کا لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی تاویل کو مفسر نیسابوری نے بھی اختیار کیا ہے۔ ہمارے خیال میں بھی یہی دوسری تفسیر صحیح ہے، اس لیے کہ معروف معنی کو چھوڑنے کے لیے وہ دلیل کافی نہیں ہے جو اوپر تفسیر اول کے حق میں بیان ہوئی ہے۔ سورة روم کا نزول جس زمانے میں ہوا ہے اس وقت قرآن مجید میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ یہ اعلان اس کے کئی برس بعد ہوا ہے۔ قرآن مجید کا طریقہ یہ ہے کہ جس چیز کو بعد میں کسی وقت حرام کرنا ہوتا ہے، اس کے لیے وہ پہلے ذہنوں کو تیار کرنا شروع کردیتا ہے۔ شراب کے معاملے میں بھی پہلے صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ وہ پاکیزہ رزق نہیں ہے، (النحل، آیت 67) پھر فرمایا کہ اس کا گناہ اس کے فائدے سے زیادہ ہے (البقرہ 219) پھر حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء، 43) پھر اس کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا۔ اسی طرح یہاں سود کے متعلق صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں ہے جس سے دولت کی افزائش ہوتی ہو، بلکہ حقیقی افزائش زکوٰۃ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد سود در سود کو منع کیا گیا (آل عمران، آیت 130) اور سب سے آخر میں بجائے خود سود ہی کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیا گیا۔ (البقرہ، آیت 5) سورة الروم 60 اس بڑھوتری کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جتنی خالص نیت اور جتنے گہرے جذبہ ایثار اور جس قدر شدید طلب رضائے الہی کے ساتھ کوئی شخص راہ خدا میں مال صرف کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سے زیادہ اجر دے گا۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص راہ خدا میں ایک کھجور بھی دے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا کر احد پہاڑ کے برابر کردیتا ہے۔