Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 4

  1. فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿4﴾

    1. فِيْمیں
    2. بِضْعِ سِنِيْنَچند سال (جمع)
    3. لِلّٰهِ الْاَمْرُاللہ ہی کے لیے حکم
    4. مِنْ قَبْلُپہلے
    5. وَمِنْۢ بَعْدُ ۭاور پیچھے
    6. وَيَوْمَئِذٍاور اس دن
    7. يَّفْرَحُخوش ہوں گے
    8. الْمُؤْمِنُوْنَاہل ایمان
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔2 اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے۔3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 2 یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔ اس کی خدائی میں کوئی اپنے زور سے غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔ جسے وہ اٹھاتا ہے وہی اٹھتا ہے اور جسے وہ گراتا ہے وہی گرتا ہے۔ سورة الروم 3 ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری، سدی ؓ وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا، اس لیے مسلمانوں کو دوہری خوشی حاصل ہوئی۔ یہی بات ایران اور روم کی تاریخوں سے بھی ثابت ہے۔ 624 ء ہی وہ سال ہے جس میں جنگ بدر ہوئی اور یہی وہ سال ہے جس میں قیصر روم نے زرتشت کا مولد تباہ کیا اور ایران کے سب سے بڑے آتشکدے کو مسمار کردیا۔