تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 46
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿46﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓاور اس کی نشانیوں سے
- اَنْ يُّرْسِلَکہ وہ بھیجتا ہے
- الرِّيَاحَہوائیں
- مُبَشِّرٰتٍخوشخبری دینے والی
- وَّلِيُذِيْقَكُمْاور تاکہ وہ تمہیں چکھائے
- مِّنْ رَّحْمَتِهٖسے (کا) اپنی رحمت
- وَلِتَجْرِيَاور تاکہ چلیں
- الْفُلْكُکشتیاں
- بِاَمْرِهٖاس کے حکم سے
- وَلِتَبْتَغُوْااور تاکہ تم تلاش کرو
- مِنْسے
- فَضْلِهٖاس کا فضل
- وَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تم
- تَشْكُرُوْنَتم شکر کرو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے68 اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے اور اِس غرض کے لیے کہ کشتیاں اُس کے حکم سے چلیں69 اور تم اُس کا فضل تلاش کرو70 اور اُس کے شکر گزار بنو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 68
یعنی باران رحمت کی خوشخبری دینے کے لیے۔
سورة الروم 69
یہ ایک اور قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ کی بادبانی کشتیوں اور جہازوں کا سفر زیادہ تر باد موافق پر منحصر تھا اور باد مخالف ان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ اس لیے بارش لانے والی ہواؤں کے بعد ان ہواؤں کا ذکر ایک نعمت خاص کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔
سورة الروم 70
یعنی تجارت کے لیے سفر کرو۔