Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 47

  1. وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿47﴾

    1. وَلَقَدْ اَرْسَلْنَااور تحقیق ہم نے بھیجے
    2. مِنْ قَبْلِكَآپ سے پہلے
    3. رُسُلًابہت سے رسول
    4. اِلٰىطرف
    5. قَوْمِهِمْان کی قومیں
    6. فَجَآءُوْهُمْپس وہ ان کے پاس آئے
    7. بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیوں کے ساتھ
    8. فَانْتَقَمْنَاپھر ہم نے انتقام لیا
    9. مِنَسے
    10. الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭوہ جنہوں نے جرم کیا (مجرم)
    11. وَكَانَاور ہے
    12. حَقًّاحق (ذمے)
    13. عَلَيْنَاہم پر (ہمارا)
    14. نَصْرُمدد
    15. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم نے تُم سے پہلے رسُولوں کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے،71 پھر جنہوں نے جُرم کیا72 اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الروم 71 یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آنا ہے، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) معجزات کی صورت میں، کلام الہی کی صورت میں، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی برحق ہے۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤید ہے۔ کائنات کی نشانیاں انبیاء کے بیان کی صداقت پر شہادت دیتی ہیں اور انبیاء کی لائی ہوئٰ نشانیاں اس حقیقت کو کھولتی ہیں جس کی طرف کائنات کی نشانیاں اشارے کر رہی ہیں۔ سورة الروم 72 یعنی جو لوگ ان دونوں نشانیوں کی طرف سے اندھے بن کر توجہ سے انکار پر جمے رہے اور خدا سے بغاوت ہی کیے چلے گئے۔