Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 10

  1. خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ﴿10﴾

    1. خَلَقَاس نے پیدا کیا
    2. السَّمٰوٰتِآسمان (جمع)
    3. بِغَيْرِ عَمَدٍبغیر ستون
    4. تَرَوْنَهَاتم انہیں دیکھتے ہو
    5. وَاَلْقٰىاور اس نے ڈالے
    6. فِي الْاَرْضِزمین میں
    7. رَوَاسِيَپہاڑ (جمع)
    8. اَنْکہ
    9. تَمِيْدَ بِكُمْجھک (نہ) جائے تمہارے ساتھ
    10. وَبَثَّاور پھیلائے
    11. فِيْهَااس میں
    12. مِنْ كُلِّہر قسم
    13. دَآبَّةٍ ۭجانور
    14. وَاَنْزَلْنَااور ہم نے اتارا
    15. مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
    16. مَآءًپانی
    17. فَاَنْۢبَتْنَاپھر ہم نے اگائے
    18. فِيْهَااس میں
    19. مِنْ كُلِّہر قسم
    20. زَوْجٍجوڑے
    21. كَرِيْمٍعمدہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
12 اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں۔ 13 اس نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے۔ 14 اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلادیے اور آسمان سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اُگادیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 12 اوپر کے تمہیدی فقروں کے بعد اب اصل مدعا، یعنی تردید شرک اور دعوت توحید پر کلام شروع ہوتا ہے۔ سورة لُقْمٰن 13 اصل الفاظ ہیں بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ " تم خود دیکھ رہے ہو کہ وہ بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ " دوسرا مطلب یہ کہ " وہ ایسے ستونوں پر قائم ہیں جو تم کو نظر نہیں آتے "۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد نے دوسرا مطلب لیا ہے، اور بہت سے دوسرے مفسرین پہلا مطلب لیتے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علوم طبیعی کے لحاظ سے اگر اس کا مفہوم بیان کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام عالم افلاک میں یہ بےحد و حساب عظیم الشان تارے اور سیارے اپنے اپنے مقام و مدار پر غیر مرئی سہاروں سے قائم کئے گئے ہیں۔ کوئی تار نہیں ہیں جنھوں نے ان کو ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہو۔ کوئی سلاخیں نہیں ہیں جو ان کو ایک دوسرے پر گر جانے سے روک رہی ہوں۔ صرف قانون جذب و کشش ہے جو اس نظام کو تھامے ہوئے ہے۔ یہ تعبیر ہمارے آج کے علم کے لحاظ سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کل ہمارے علم میں کچھ اور اضافہ ہو اور اس سے زیادہ لگتی ہوئی کوئی دوسری تعبیر اس حقیقت کی کی جاسکے۔ سورة لُقْمٰن 14 تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد 2، صفحہ 530، 12۔