تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 12
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور البتہ ہم نے دی
- لُقْمٰنَلقمان
- الْحِكْمَةَحکمت
- اَنِکہ
- اشْكُرْتم شکر کرو
- لِلّٰهِ ۭاللہ کا
- وَمَنْاور جو
- يَّشْكُرْشکر کرتا ہے
- فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں (صرف)
- يَشْكُرُوہ شکر کرتا ہے
- لِنَفْسِهٖ ۚاپنے لیے
- وَمَنْ كَفَرَاور جس نے ناشکری کی
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- غَنِيٌّبےنیاز
- حَمِيْدٌتعریفوں کے ساتھ
Translation · Tafheem-ul-Quran
17 ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار رہو۔ 18 جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے۔ اور جو کفر کرے حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 17
شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معقول بات آج کوئی پہلی مرتبہ تمہارے سامنے پیش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پہلے بھی عاقل و دانا لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں اور تمہارا اپنا مشہور حکیم، لقمان اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔ اس لئے تم محمد ﷺ کی اس دعوت کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر شرک کوئی نامعقول عقیدہ ہے تو پہلے کسی کو یہ بات کیوں نہیں سوجھی۔
لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ شعرائے جاہلیت، مثلاً امراؤ القیس، لَبِید، اَعْشیٰ ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔ چناچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اولین شخص جو نبی ﷺ سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا۔ وہاں حضور ﷺ اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوت اسلام دیتے پھر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں سوید نے جب نبی ﷺ کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان۔ پھر آپ ﷺ کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپ ﷺ کو سنایا۔ یہ بہت اچھا کلام ہے، مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے (سیر ۃ ابن ہشام، ج 2، ص 67۔ 69۔ اُسُد الغابہ، ج 2، صفحہ 378) مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص (سُوَید بن صامت) مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر " کامل " کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن نبی ﷺ سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدت بعد جنگ بعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضور ﷺ سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہوگیا تھا۔
تاریخی اعتبار سے لقمان کی شخصیت کے بارے میں بڑے اختلافات ہیں۔ جاہلیت کی تاریک صدیوں میں کئی مدَوَّن تاریخ تو موجود نہ تھی۔ معلومات کا انحصار ان سینہ بسینہ روایات پر تھا جو سینکڑوں برس سے چلی آ رہی تھیں۔ ان روایات کی رو سے بعض لوگ لقمان کو قوم عاد کا ایک فرد اور یمن کا ایک بادشاہ قرار دیتے تھے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے انہی روایات پر اعتماد کر کے ارض القرآن میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قوم عاد پر خدا کا عذاب آنے کے بعد اس قوم کے جو اہل ایمان حضرت ہود ؑ کے ساتھ بچ رہے تھے، لقمان انہی نسل سے تھا اور یمن میں اس قوم نے جو حکومت قائم کی تھی، یہ اس کے بادشاہوں میں سے ایک تھا۔ لیکن دوسری روایات جو بعض اکابر صحابہ وتابعین سے مروی ہیں اس کے بالکل خلاف ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ لقمان ایک حبشی غلام تھا۔ یہی قول حضرت ابوہریرہ، مُجاہِد، عکْرِمَہ اور خالد الربعی کا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ وہ نوبہ کا رہنے والا تھا۔ سعید بن مُسَیِّب کا قول ہے کہ وہ مصر کے سیاہ رنگ لوگوں میں سے تھا۔ یہ تینوں اقوال قریب قریب متشابہ ہیں۔ کیونکہ عرب کے لوگ سیاہ رنگ لوگوں کو اس زمانہ میں عموماً حبشی کہتے تھے، اور نوبہ اس علاقہ کا نام ہے جو مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال میں واقع ہے۔ اس لیے تینوں اقوال میں ایک شخص کو مصری، نُوبی اور حبشی قرار دینا محض لفظی اختلاف ہے معنی میں کوئی فرق نہیں ہے، پھر روض الانف میں سُہَیلی اور مُرُوج الذَّہَب میں مسعودی کے بیانات سے اس سوال پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اس سوڈانی غلام کی باتیں عرب میں کیسے پھیلیں۔ ان دونوں کا بیان ہے کہ یہ شخص اصلاً تو نوبی تھا، لیکن باشندہ مَدْیَن اور ایلہ (موجودہ عَقَبہ) کے علاقے کا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی زبان عربی تھی اور اس کی حکمت عرب میں شائع ہوئی۔ مزید براں سُہَیلی نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ لقمان حکیم اور لقمان بن عاد دو الگ الگ اشخاص ہیں۔ ان کو ایک شخصیت قرار دینا صحیح نہیں ہے (روض الانف، ج 1، ص 266۔ مسعودی، ج 1۔ ص 57)۔
یہاں اس بات کی تصریح بھی ضروری ہے کہ مستشرق دیر نبورگ (Derenbours) نے پیرس کے کتب خانہ کا ایک عربی مخطوطہ جو " امثال لقمان الحکیم " (Fables DeLoqman LeSage) کے نام سے شائع کیا ہے وہ حقیقت میں ایک موضوع چیز ہے جس کا مجلّٔہ لقمان سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ یہ امثال تیرھویں صدی عیسوی میں کسی شخص نے مرتب کی تھیں۔ اس کی عربی بہت ناقص ہے اور اسے پڑھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ دراصل کسی اور زبان کی کتاب کا ترجمہ ہے جسے مصنف یا مترجم نے اپنی طرف سے لقمان حکیم کی طرف منسوب کردیا ہے۔ مستشرقین اس قسم کی جعلی چیزیں نکال نکال کر جس مقصد کے لیے سامنے لاتے ہیں وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کسی طرح قرآن کے بیان کردہ قصوں کو غیر تاریخی افسانے ثابت کر کے ساقط الاعتبار ٹھہرا دیا جائے۔ جو شخص بھی انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں " لقمان " کے عنوان پر ہیلر (B. Heller) کا مضمون پڑھے گا اس سے ان لوگوں کی نیت کا حال مخفی نہ رہے گا۔
سورة لُقْمٰن 18
یعنی اللہ کی بخشی ہوئی اس حکمت و دانائی اور بصیرت و فرزانگی کا اولین تقاضا یہ تھا کہ انسان اپنے رب کے مقابلے میں شکر گزاری و احسان مندی کا رویہ اختیار کرے نہ کہ کفران نعمت اور نمک حرامی کا۔ اور اس کا یہ شکر محض زبانی جمع خرچ ہی نہ ہو بلکہ فکر اور قول اور عمل، تینوں صورتوں میں ہو۔ وہ اپنے قلب و ذہن کی گہرائیوں میں اس بات کا یقین و شعور بھی رکھتا ہو کہ مجھے جو کچھ نصیب ہے خدا کا دیا ہوا ہے۔ اس کی زبان اپنے خدا کے احسانات کا ہمیشہ اعتراف بھی کرتی رہے۔ اور وہ عملاً بھی خدا کی فرماں برداری کر کے، اس کی معصیت سے پرہیز کر کے، اس رضا کی طلب میں دوڑ دھوپ کر کے، اس کے دیے ہوئے انعامات کو اس کے بندوں تک پہنچا کر، اور اس کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے مجاہدہ کر کے یہ ثابت کر دے کہ وہ فی الواقع اپنے خدا کا احسان مند ہے۔
سورة لُقْمٰن 19
یعنی جو شخص کفر کرتا ہے اس کا کفر اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہے، اللہ تعالیٰ کا اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ وہ بےنیاز ہے، کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ کسی کا شکر اس کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں کردیتا، نہ کسی کا کفر اس امر واقعہ کو بدل سکتا ہے کہ بندوں کو جو نعمت بھی نصیب ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ وہ تو آپ سے آپ محمود ہے خواہ کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے کمال و جمال اور اس کی خلاقی و رزاقی پر شہادت دے رہا ہے اور ہر مخلوق زبان حال سے اس کی حمد بجا لا رہی ہے۔