Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 14

  1. وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ﴿14﴾

    1. وَوَصَّيْنَااور ہم نے تاکید کردی
    2. الْاِنْسَانَانسان
    3. بِوَالِدَيْهِ ۚاس کے ماں باپ کے بارہ میں
    4. حَمَلَتْهُاسے پیٹ میں رکھا
    5. اُمُّهٗاس کی ماں
    6. وَهْنًاکمزوری
    7. عَلٰي وَهْنٍپر کمزوری
    8. وَّفِصٰلُهٗاور اس کا دودھ چھڑانا
    9. فِيْ عَامَيْنِدو سال میں
    10. اَنِ اشْكُرْ لِيْکہ تو میرا شکر کر
    11. وَلِوَالِدَيْكَ ۭاور اپنے ماں باپ کا
    12. اِلَيَّمیری طرف
    13. الْمَصِيْرُلوٹ کر آنا
Translation · Tafheem-ul-Quran
22 اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھاکر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ 23 (اسی لیے ہم نے ان کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 22 یہاں سے پیراگراف کے آخر تک کی پوری عبارت ایک جملۂ معترضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے لقمان کے قول کی تشریح مزید کے لیے ارشاد فرمایا ہے۔ سورة لُقْمٰن 23 ان الفاظ سے امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچے کی مدت رضاعت دو سال ہے۔ اس مدت کے اندر اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو تب تو حرمت رضاعت ثابت ہوگی، ورنہ بعد کی کسی رضاعت کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے گا۔ امام مالک سے بھی ایک روایت اسی قول کے حق میں ہے لیکن امام ابوحنیفہ نے مزید احتیاط کی خاطر ڈھائی سال کی مدت تجویز کی ہے، اور اس کے ساتھ ہی امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر دو سال یا اس سے کم مدت میں بچے کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور اپنی غذا کے لیے بچہ دودھ کا محتاج نہ رہا ہو تو اس کے بعد کسی عورت کا دودھ پی لینے سے کوئی حرمت ثابت نہ ہوگی۔ البتہ اگر بچے کی اصل غذا دودھ ہی ہو تو دوسری غذا تھوڑی بہت کھانے کے باوجود اس زمانے کی رضاعت سے حرمت ثابت ہوجائے گی۔ اس لیے کہ آیت کا منشا یہ نہیں ہے کہ بچے کو لازماً دو سال ہی دودھ پلایا جائے۔ سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے والْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ " مائیں بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں اس شخص کے لئے جو رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو " (آیت 233)۔ ابن عباس ؓ نے ان الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے اور اہل علم نے اس پر ان سے اتفاق کیا ہے کہ حمل کی قلیل ترین مدت چھ ماہ ہے، اس لیے کہ قرآن میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے وَحَمْلُہ وَفِصٰلُہ ثَلٰثُوْنَ شَھْرًا " اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کا دودھ چھوٹنا 30 مہینوں میں ہوا۔ " (الاحقاف، آیت 15)۔ یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہے جو جائز اور ناجائز ولادت کی بہت سی بحثوں کا فیصلہ کردیتا ہے۔