Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 18

  1. وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ﴿18﴾

    1. وَلَا تُصَعِّرْاور توٹیڑھا نہ کر
    2. خَدَّكَاپنا رخسار
    3. لِلنَّاسِلوگوں سے
    4. وَلَا تَمْشِاور نہ چل تو
    5. فِي الْاَرْضِزمین میں
    6. مَرَحًا ۭاتراتا
    7. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    8. لَا يُحِبُّپسند نہیں کرتا
    9. كُلَّہر۔ کسی
    10. مُخْتَالٍاترانے والا
    11. فَخُوْرٍخود پسند
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر 31 ، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ 32
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 31 اصل الفاظ ہیں لَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ للنَّاسِ۔ صَعَر عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اونٹ اپنا منہ ہر وقت ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے محاورہ نکلا فلان صعّر خدّہ، " فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلا پھیرلیا " یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا اور منہ پھیر کر بات کی۔ اسی کے متعلق قبیلۂ تغلب کا ایک شاعر عمرو بن حی کہتا ہے، وکنّا اذا الجبار صَعَّر خَدَّ ٭ اقمنَا لہ من میْلہ فتقوّ مَا ہم ایسے تھے کہ جب کبھی کسی جبار نے ہم سے بات کی تو ہم نے اس کی ٹیڑھ ایسی نکالی کہ وہ سیدھا ہوگیا۔ " سورة لُقْمٰن 32 اصل الفاظ ہیں مختال اور فخور۔ مختال کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنی دانست میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو۔ اور فخور اس کو کہتے ہیں جو اپنی بڑائی کا دوسروں پر اظہار کرے۔ آدمی چال میں اکڑ اور اتراہٹ اور تبختر کی شان لازماً اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے دماغ میں تکبر کی ہوا بھر جاتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو اپنی بڑائی محسوس کرائے۔