Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 17

  1. یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ﴿17﴾

    1. يٰبُنَيَّاے میرے بیٹے
    2. اَقِمِ الصَّلٰوةَقائم کر نماز
    3. وَاْمُرْاور حکم دے
    4. بِالْمَعْرُوْفِاچھے کام
    5. وَانْهَاور روک تو
    6. عَنِسے
    7. الْمُنْكَرِبری بات
    8. وَاصْبِرْاور صبر کر
    9. عَلٰيپر
    10. مَآ اَصَابَكَ ۭجو تجھ پر پہنچے
    11. اِنَّ ذٰلِكَبیشک یہ
    12. مِنْسے
    13. عَزْمِ الْاُمُوْرِبڑی ہمت کے کام
Translation · Tafheem-ul-Quran
بیٹا ، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر ، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر 29۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے 30
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 29 اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ جو شخص بھی نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کا کام کرے گا اس پر مصائب کا نزول ناگزیر ہے۔ دنیا لازماً ایسے شخص کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑجاتی ہے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آ کر رہتا ہے۔ سورة لُقْمٰن 30 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ اصلاح خلق کے لیے اٹھنا اور اس کی مشکلات کو انگیز کرنا کم ہمت لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے۔