تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 25
وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿25﴾
- وَلَئِنْاور اگر
- سَاَلْتَهُمْتم ان سے پوچھو
- مَّنْ خَلَقَکس نے پیدا کیا
- السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
- وَالْاَرْضَاور زمین
- لَيَقُوْلُنَّتو وہ یقینا کہیں گے
- اللّٰهُ ۭاللہ
- قُلِفرمادیں
- الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭتمام تعریفیں اللہ کے لیے
- بَلْ اَكْثَرُهُمْبلکہ ان کے اکثر
- لَا يَعْلَمُوْنَجانتے نہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر تم ان سے پوچھو کے زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہو الحمدللہ۔ 44 مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ 45
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لقمن حاشیہ 44
یعنی شکر ہے تم اتنی بات تو جانتے ہو اور مانتے ہو۔ لیکن جب حقیقت یہ ہے تو پھر حمد ساری کی ساری صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ دوسری کوئی ہستی حمد کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے جبکہ تخلیق کائنات میں اس کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔
سورة لُقْمٰن 45
یعنی اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو خالق کائنات ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں، اور کونسی باتیں اس کی نقیض پڑتی ہیں۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق صرف اللہ ہے تو لازماً اس کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہے، عبادت اور طاعت و بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے، تسبیح وتحمید بھی اس کے سوا کسی دوسرے کی نہیں کی جاسکتی، دعائیں بھی اس کے سوا کسی اور سے نہیں مانگی جا سکتیں، اور اپنی مخلوق کے لیے شارع اور حاکم بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ خالق ایک ہو اور معبود دوسرا، یہ بالکل عقل کے خلاف ہے، سراسر متضاد بات ہے جس کا قائل صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو جہالت میں پڑا ہوا ہو۔ اسی طرح ایک ہستی کو خالق ماننا اور پھر دوسری ہستیوں میں سے کسی کو حاجت روا و مشکل کشا ٹھہرانا، کسی کے آگے سر نیاز جھکانا، اور کسی کو حاکم ذی اختیار اور مطاع مطلق تسلیم کرنا، یہ سب بھی باہم متناقض باتیں ہیں جنہیں کوئی صاحب علم انسان قبول نہیں کرسکتا۔