Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 28

  1. مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿28﴾

    1. مَا خَلْقُكُمْنہیں تم سب کا پیدا کرنا
    2. وَلَا بَعْثُكُمْاور نہیں تمہارا جی اٹھنا
    3. اِلَّامگر
    4. كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭجیسے ایک شخص
    5. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    6. سَمِيْعٌۢسننے والا
    7. بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہی کہ اللہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ 49
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 49 یعنی وہ بیک وقت ساری کائنات کی آوازیں الگ الگ سن رہا ہے اور کوئی آواز اس کی سماعت کو اس طرح مشغول نہیں کرتی کہ اسے سنتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ سن سکے۔ اسی طرح وہ بیک وقت ساری کائنات کو اس کی ایک ایک چیز اور ایک ایک واقعہ کی تفصیل کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور کسے چیز کے دیکھنے میں اس کی بینائی اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسے دیکھتے ہوئے وہ دوسری چیزیں نہ دیکھ سکے۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ انسانوں کے پیدا کرنے اور دوبارہ وجود میں لانے کا بھی ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے آدمی بھی پیدا ہوئے ہیں اور آئندہ قیامت تک ہوں گے ان سب کو وہ ایک آن کی آن میں پھر پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت تخلیق ایک انسان کو بنانے میں اس طرح مشغول نہیں ہوتی کہ اسی وقت وہ دوسرے انسان نہ پیدا کرسکے۔ اس کے لیے ایک انسان کا بنانا اور کھربوں انسانوں کا بنادینا یکساں ہے۔