تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 27
وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿27﴾
- وَلَوْاور اگر
- اَنَّیہ ہو کہ
- مَاجو
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- مِنْسے۔ کوئی
- شَجَرَةٍدرخت
- اَقْلَامٌقلمیں
- وَّالْبَحْرُاور سمندر
- يَمُدُّهٗاس کی سیاہی
- مِنْۢ بَعْدِهٖاس کے بعد
- سَبْعَةُسات
- اَبْحُرٍسمندر (جمع)
- مَّا نَفِدَتْتو بھی ختم نہ ہوں
- كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭاللہ کی باتیں
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- عَزِيْزٌغالب
- حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر(دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں لکھنے سے ختم نہ ہوں گی۔ 48 بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 48
اللہ کی باتوں سے مراد ہیں اس کے تخلیقی کام اور اس کی قدرت و حکمت کے کرشمے۔ یہ مضمون اس سے ذرا مختلف الفاظ میں سورة کہف آیت 109 میں بھی بیان ہوا ہے۔ بظاہر ایک شخص یہ گمان کرے گا شاید اس قول میں مبالغہ کیا۔ لیکن اگر آدمی تھوڑا سا غور کرے تو محسوس ہوگا کہ درحقیقت اس میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہے۔ جتنے قلم اس زمین کے درختوں سے بن سکتے ہیں اور جتنی روشنائی زمین کے موجودہ سمندر اور ویسے ہی سات مزید سمندر فراہم کرسکتے ہیں، ان سے اللہ کی قدرت و حکمت اور اس کی تخلیق کے سارے کرشمے تو درکنار، شائد موجودات عالم کی مکمل فہرست بھی نہیں لکھی جاسکتی۔ تنہا اس زمین پر جتنی موجودات پائی جاتی ہیں انہی کا شمار مشکل ہے، کجا کہ اس اتھاہ کائنات کی ساری موجودات ضبط تحریر میں لائی جاسکیں۔
اس بیان سے دراصل یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ جو خدا اتنی بڑی کائنات کو وجود میں لایا ہے اور ازل سے ابد تک اس کا سارا نظم و نسق چلا رہا ہے اس کی خدائی میں ان چھوٹی چھوٹی ہستیوں کی حیثیت ہی کیا ہے جنہیں تم معبود بنائے بیٹھے ہو۔ اس عظیم الشان سلطنت کے چلانے میں دخیل ہونا تو درکنار، اس کے کسی اقل قلیل جز سے پوری واقفیت اور محض واقفیت تک کسی مخلوق کے بس کی چیز نہیں ہے۔ پھر بھلا یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ مخلوقات میں سے کسی کو یہاں خداوندانہ اختیارات کا کوئی ادنیٰ سا حصہ بھی مل سکے جس کی بنا پر وہ دعائیں سننے اور قسمتیں بنانے اور بگاڑنے پر قادر ہو۔