تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 34
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ع﴿34﴾
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- عِنْدَهٗاس کے پاس
- عِلْمُ السَّاعَةِ ۚقیامت کا علم
- وَيُنَزِّلُاور وہ نازل کرتا ہے
- الْغَيْثَ ۚبارش
- وَيَعْلَمُاور وہ جانتا ہے
- مَاجو
- فِي الْاَرْحَامِ ۭ(حاملہ کے) رحم میں
- وَمَااور نہیں
- تَدْرِيْجانتا
- نَفْسٌکوئی شخص
- مَّاذَاکیا
- تَكْسِبُوہ کرے گا
- غَدًا ۭکل
- وَمَا تَدْرِيْاور نہیں جانتا
- نَفْسٌۢکوئی شخص
- بِاَيِّکس
- اَرْضٍزمین
- تَمُوْتُ ۭوہ مرے گا
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- عَلِيْمٌعلم والا
- خَبِيْرٌخبردار
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس گھڑی کا علم اللہ کی کے پاس ہے ، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماوٴں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے ، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کِس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ 63
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 63
یہ آیت دراصل اس سوال کا جواب ہے جو قیامت کا ذکر اور آخرت کا وعدہ سن کر کفار مکہ بار بار رسول اللہ ﷺ سے کرتے تھے کہ آخر وہ گھڑی کب آئے گی۔ قرآن مجید میں کہیں ان کے اس سوال کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے، اور کہیں نقل کیے بغیر جواب دے دیا گیا ہے، کیونکہ مخاطبین کے ذہن میں وہ موجود تھا۔ یہ آیت بھی انہی آیات میں سے ہے جن میں سوال کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے۔
پہلا فقرہ " اس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ " یہ اصل سوال کا جواب ہے۔ اس کے بعد کے چاروں فقرے اس کے لیے دلیل کے طور پر ارشاد ہوئے ہیں۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جن معاملات سے انسان کی قریب ترین دلچسپیاں وابستہ ہیں، انسان ان کے متعلق بھی کوئی علم نہیں رکھتا، پھر بھلا یہ جاننا اس کے لیے کیسے ممکن ہے کہ ساری دنیا کے انجام کا کب آئے گا۔ تمہاری خوشحالی و بد حالی کا بڑا انحصار بارش پر ہے۔ مگر اس کا سر رشتہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب، جہاں، جتنی چاہتا ہے برساتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ ہم قطعاً نہیں جانتے کہ کہاں، کس وقت کتنی بارش ہوگی اور کونسی زمین اس سے محروم رہ جائے گی، یا کس زمین پر بارش الٹی نقصان دہ ہوجائے گی۔ تمہاری اپنی بیویوں کے پیٹ میں تمہارے اپنے نطفے سے حمل قرار پاتا ہے جس سے تمہاری نسل کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ مگر تم نہیں جانتے کہ کیا چیز اس پیٹ میں پرورش پا رہی ہے اور کس شکل میں کن بھلائیوں یا برائیوں کو لیے ہوئے وہ برآمد ہوگی۔ تم کو یہ تک پتہ نہیں ہے کہ کل تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آنا ہے۔ ایک اچانک حادثہ تمہاری تقدیر بدل سکتا ہے، مگر ایک منٹ پہلے بھی تم کو اس کی خبر نہیں ہوتی، تم کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ تمہاری اس زندگی کا خاتمہ آخر کار کہاں کس طرح ہوگا۔ یہ ساری معلومات اللہ نے اپنے ہی پاس رکھی ہیں اور ان میں سے کسی کا علم بھی تم کو نہیں دیا۔ ان میں سے ایک ایک چیز ایسی ہے جسے تم چاہتے ہو کہ پہلے سے تمہیں اس کا علم ہوجائے تو کچھ اس کے لیے پیش بندی کرسکو لیکن تمہارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ ان معاملات میں اللہ ہی کی تدبیر اور اسی کی قضا پر بھروسہ کرو۔ اسی طرح دنیا کے اختتام کی ساعت کے معاملے میں بھی اللہ کے فیصلے پر اعتماد کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ اس کا علم بھی نہ کسی کو دیا گیا ہے نہ دیا جاسکتا ہے۔
یہاں ایک بات اور بھی اچھی طرح سمجھ لینی ضروری ہے، کہ اس آیت میں امور غیب کی کوئی فہرست نہیں دی گئی ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ یہاں تو صرف سامنے کی چند چیزیں مثالاً پیش کی گئی ہیں جن سے انسان کی نہایت گہری اور قریبی دلچسپیاں وابستہ ہیں اور انسان اس سے بیخبر ہے۔ اس سے نتیجہ نکالنا درست نہ ہوگا کہ صرف یہی پانچ امور غیب ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ حالانکہ غیب نام ہی اس چیز کا ہے جو مخلوقات سے پوشیدہ اور صرف اللہ پر روشن ہو، اور فی الحقیقت اس غیب کی کوئی حد نہیں ہے۔ (اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جِلد سوم، صفحات 595 تا 598)۔