Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 31. Luqman · Ayah 33

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿33﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. النَّاسُلوگو
    3. اتَّقُوْاتم ڈرو
    4. رَبَّكُمْاپنا پروردگار
    5. وَاخْشَوْااور خوف کرو
    6. يَوْمًاوہ دن
    7. لَّا يَجْزِيْنہ کام آئے گا
    8. وَالِدٌکوئی باپ
    9. عَنْسے۔ کے
    10. وَّلَدِهٖ ۡاپنے بیٹے
    11. وَلَا مَوْلُوْدٌاور نہ کوئی بیٹا
    12. هُوَوہ
    13. جَازٍکام آئے گا
    14. عَنْ وَّالِدِهٖسے ۔ کے باپ
    15. شَيْئًا ۭکچھ
    16. اِنَّبیشک
    17. وَعْدَ اللّٰهِاللہ کا وعدہ
    18. حَقٌّسچا
    19. فَلَا تَغُرَّنَّكُمُسو تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے
    20. الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪دنیا کی زندگی
    21. وَلَا يَغُرَّنَّكُمْاور تمہیں ہرگز دھوکے نہ دے
    22. بِاللّٰهِاللہ سے
    23. الْغَرُوْرُدھوکہ دینے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگو ! بچو اپنے ربّ کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ 59 فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّا ہے۔ 60 پس یہ دُنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے 61 اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکہ دینے پائے۔ 62
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة لُقْمٰن 59 یعنی دوست، لیڈر، پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے۔ مگر وہاں حالت یہ ہوگی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اسکے گناہ میں مجھے پکڑ لیا جائے، اور باپ کی شامت آرہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوگی کہ اس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے۔ اس حالت میں یہ توقع کرنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص وہاں کسی کے کچھ کام آئے گا۔ لہٰذا نادان ہے وہ شخص جو دنیا میں دوسروں کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے، یا کسی کے بھروسے پر گمراہی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس مقام پر آیت نمبر 15 کا مضمون بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جس میں اولاد کو تلقین کی گئی تھی کہ دنیوی زندگی کے معاملات میں والدین کی خدمت کرنا تو بیشک ہے مگر دین و اعتقاد کے معاملے میں والدین کے کہنے پر گمراہی قبول کرلینا ہرگز صحیح نہیں ہے۔ سورة لُقْمٰن 60 اللہ کے وعدے سے مراد یہ وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ایک روز اللہ کی عدالت قائم ہو کر رہے گی جس میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہوگی۔ سورة لُقْمٰن 61 دنیا کی زندگی سطح بیں انسانوں کو مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرتی ہے، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے، لہٰذا جتنا کچھ بھی تمہیں کرنا ہے بس یہیں کرلو، کوئی اپنی دولت اور طاقت اور خوشحالی کے نشے میں بدمست ہو کر اپنی موت کو بھول جاتا ہے اور اس خیال خام میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اس کا عیش اور اس کا اقتدار لازوال ہے۔ کوئی اخلاقی و روحانی مقاصد کو فراموش کر کے صرف مادی فوائد اور لذتوں کو مقصود بالذات سمجھ لیتا ہے اور " معیار زندگی " کی بلندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کو کوئی اہمیت نہیں دیتا خواہ نتیجے میں اس کا معیار آدمیت کتنا ہی پست ہوتا چلا جائے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ دنیوی خوشحالی ہی حق و باطل کا اصل معیار ہے، ہر وہ طریقہ حق ہے جس پر چل کر یہ نتیجہ حاصل ہو اور اس کے برعکس جو کچھ بھی ہے باطل ہے۔ کوئی اسی خوشحالی کو مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور یہ قاعدۂ کلیہ بنا کر بیٹھ جاتا ہے کہ جس کی دنیا خوب بن رہی ہے، خواہ کیسے ہی طریقوں سے بنے، وہ خدا کا محبوب ہے، اور جس کی دنیا خراب ہے، چاہے وہ حق پسندی و راست بازی ہی کی بدولت خراب ہو، اس کی عاقبت بھی خراب ہے۔ یہ اور ایسی ہی جتنی غلط فہمیاں بھی ہیں، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں " دنیوی زندگی کے دھوکے " سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورة لُقْمٰن 62 الغرور (دھوکے باز) سے مراد شیطان بھی ہوسکتا ہے، کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ بھی ہوسکتا ہے، انسان کا اپنا نفس بھی ہوسکتا ہے، اور کوئی دوسری چیز بھی ہو سکتی ہے۔ کسی شخص خاص یا شئے خاص کا تعین کیے بغیر اس وسیع المعنی لفظ کو اس کی مطلق صورت میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے لیے فریب خوردگی کے بنیادی اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ جس شخص نے خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی وہ اصل فریب کھایا ہو جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا وہی اس کے لیے الغرور ہے۔ " اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے " کے الفاظ بھی بہت وسیع ہیں جن میں بیشمار مختلف قسم کے دھوکے آجاتے ہیں۔ کسی کو اس کا " دھوکے باز " یہ یقین دلاتا ہے کہ خدا سرے سے ہے ہی نہیں۔ کسی کو یہ سمجھاتا ہے کہ خدا اس دنیا کو بنا کر الگ جا بیٹھا ہے اور اب یہ دنیا بندوں کے حوالے ہے۔ کسی کو اس غلط فہمی میں ڈالتا ہے کہ خدا کے کچھ پیارے ایسے ہیں جن کا تقرب حاصل کرلو تو جو کچھ بھی تم چاہو کرتے رہو، بخشش تمہاری یقینی ہے۔ کسی کو اس دھوکے میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا تو غفور الرحیم ہے، تم گناہ کرتے چلے جاؤ، وہ بخشتا چلا جائے گا۔ کسی کو جبر کا عقیدہ سمجھاتا ہے اور اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے تم تو مجبور ہو، بدی کرتے ہو تو خدا تم سے کراتا ہے اور نیکی سے دور بھاگتے ہو تو خدا ہی تمہیں اس کی توفیق نہیں دیتا۔ اس طرح کے نہ معلوم کتنے دھوکے ہیں جو انسان خدا کے بارے میں کھا رہا ہے، اور اگر تجزیہ کر کے دیکھا جائے تو آخر کار تمام گمراہیوں اور گناہوں اور جرائم کا بنیادی سبب یہی نکلتا ہے کہ انسان نے خدا کے بارے میں کوئی نہ کوئی دھوکا کھایا ہے تب ہی اس سے کسی اعتقادی ضلالت یا اخلاقی بےراہ روی کا صدور ہوا ہے۔